مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: ایسے دور میں جب طاقت اور اخلاقیات کے درمیان تعلق انسانی معاشروں کا ایک اہم سوال بنا ہوا ہے، پرانے فکری نظریات کا دوبارہ جائزہ لینا نئے اور بہتر نقطہ نظر سامنے لا سکتا ہے۔ جدید سیاسی فلسفے میں “اوپن سوسائٹی” یعنی کھلا معاشرہ ایک اہم تصور کے طور پر ابھرا ہے، جہاں اقتدار کو مقدس درجہ حاصل نہیں ہوتا، حکمران خطا سے مبرا نہیں سمجھے جاتے اور تنقید کو خطرہ نہیں بلکہ اصلاح کی شرط سمجھا جاتا ہے۔
اسلامی روایت میں بھی، بالخصوص امام علی کی سیرت اور اقوال میں اس طرزِ فکر کے نمایاں آثار ملتے ہیں۔ ان کے نزدیک حکومت کوئی مقدس ہدف نہیں بلکہ ایک وسیلہ ہے، جس کا مقصد ظلم کا خاتمہ اور عوام کی مشکلات میں کمی لانا ہے۔ وہ اقتدار کو ذاتی برتری یا الوہی حق کے طور پر پیش نہیں کرتے بلکہ اسے عدل کے قیام کا عملی ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ امام علیؑ کی نظر میں حکومت نہ تو فطری حق ہے اور نہ ہی خود بخود حاصل ہونے والی کوئی مقدس شے۔ آپؑ نے بارہا واضح کیا کہ اقتدار اسی وقت معنی رکھتا ہے جب عوام اس کی تائید کریں اور وہ انصاف کے قیام میں مددگار ہو۔ اس تصور میں طاقت “پیدائشی حق” کے بجائے “مشروط ذمہ داری” بن جاتی ہے۔ اس منطق کے مطابق حکمران زمین پر خدا کا سایہ نہیں بلکہ ایک خطاپذیر انسان ہے، جسے عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ یہی طرزِ فکر ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے، جہاں کوئی فرد تنقید سے بالاتر نہیں ہوتا اور اصلاح کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔
سیاسی طاقت کے سامنے اخلاقی مزاحمت
سیاست میں ایک بڑا خطرہ تاریخی جبر پر یقین رکھنا ہے؛ یعنی یہ تصور کہ تاریخ کا راستہ پہلے سے طے شدہ ہے اور انسان محض ایک ناگزیر منصوبے کے نفاذ کرنے والے ہیں۔ ایسا عقیدہ اکثر ظلم و استبداد کو جواز فراہم کرتا ہے، کیونکہ جب کسی عمل کو تاریخی ضرورت کا نام دے دیا جائے تو وہ اس کا دفاع ناگزیر دکھائی دینے لگتا ہے۔
علوی منطق میں تاریخ کوئی حتمی تقدیر کا اسٹیج نہیں بلکہ آزمائش اور انتخاب کا میدان ہے۔ امام علیہ السلام نے اپنے فرزند کو نصیحت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ماضی کا مطالعہ اس لیے کیا جائے کہ اس سے سبق حاصل ہو، نہ کہ انسان خود کو تقدیر کے سپرد کر دے۔ یہ زاویۂ نظر سیاست میں انسانی اخلاقی ذمہ داری کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ اسی طرح سیاست میں مطلق سچ کے دعوے کا خطرہ بھی کم نہیں۔ جب کوئی فرد یا گروہ خود کو حق کا واحد مالک سمجھنے لگے تو دوسروں کو خارج کرنے کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔ تاریخ کے تجربات بتاتے ہیں کہ حتمی سچائی کو سمجھ لینے کا دعوی اکثر مخالفین کی نفی اور بعض اوقات ان کے خلاف تشدد کا باعث بنتا ہے۔
اختلاف رائے اور احتساب کی علوی روایت
خوارج کے ساتھ شدید فکری اختلاف کے باوجود امام علی علیہ السلام نے اُس وقت تک ان کی آزادی اظہار اور سماجی موجودگی پر پابندی عائد نہیں کی جب تک انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ یہ طرز عمل واضح کرتا ہے کہ فکری اختلاف، خواہ کتنا ہی سخت اور تلخ کیوں نہ ہو، بذات خود جبر کا جواز نہیں بنتا۔ ایسا رویہ سیاسی پختگی اور انسانی تنوع کو قبول کرنے کی علامت ہے۔
حاکم پر تنقید بے ادبی نہیں بلکہ ایک فریضہ ہے۔ نہج البلاغہ کے نمایاں مقامات میں سے ایک وہ ہے جہاں امام علیؑ کھلے الفاظ میں خود احتسابی کی دعوت دیتے ہیں۔ آپؑ لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ حق بات کہنے اور منصفانہ مشورہ دینے سے گریز نہ کریں اور یہ گمان نہ کریں کہ حکمران خطا سے پاک ہے۔ جس معاشرے میں حاکم پر تنقید کو جرم سمجھا جائے وہاں لازماً بدعنوانی پنپتی ہے، لیکن جہاں تنقید کو باقاعدہ اور جائز مقام حاصل ہو، وہاں اصلاح کا امکان ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ یہ سوچ اقتدار کو تقدس کے خول سے نکال کر جواب دہی کے دائرے میں لے آتی ہے۔
عملی انصاف اور عوامی فلاح کی علوی فکر
سیاست کی ایک بڑی آفت یہ ہے کہ بلند و بانگ نعروں اور نظریات کے نام پر انسانوں کو قربان کردیا جاتا ہے۔ بعض اوقات حکومتیں ایک مثالی معاشرہ قائم کرنے کے دعوے میں عوام کی ٹھوس اور روزمرہ تکالیف کو نظر انداز کردیتی ہیں، گویا نظریہ انسان سے زیادہ اہم ہو۔
علوی منطق میں انصاف کوئی خالی اور بلند بانگ نعرہ نہیں بلکہ سب سے پہلے ایک مظلوم کی فریاد سننے، کسی کارندے کے ظلم کو روکنے اور ضرورت مند کی مدد کرنے کا نام ہے۔ امام علی علیہ السلام کے نزدیک عدل صرف خیالی اور مثالی نہیں بلکہ عملی اور زمینی ہے۔
عہدنامہ مالک اشتر میں عمومی اور مبہم نعروں کے بجائے حکام کی نگرانی، عوام کے حقوق کے احترام اور کمزور طبقات کی خبرگیری پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں اقتدار کو عوامی خدمت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، نہ کہ نظریاتی تجربہ گاہ۔ یہ تصور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی سیاست وہی ہے جو انسانوں کے دکھ درد کو کم کرے، نہ کہ انہیں کسی بلند خواب کی بھینٹ چڑھا دے۔
آپ کا تبصرہ